Badshah khud Apni beti par fidda latest Urdu Novel 2022

کسی ملک کاایک بادشاہ تھا اس میں ایک بہت بری عادت تھی۔ سے بیٹی اسے بہت نفرت تھی اللہ کی قدرت کہ اس کے ہاں پہلے بیٹا پیدا ہوا۔ اسے اپنا بیٹا بہت عزیز تھا اور اس کی پرورش پیار سے ہو رہی تھی۔ چند سال بعد ملکہ پھر امید سے ہوگئی۔ ولادت کے دن قریب تھے۔ لیکن بادشاہ کو کسی دوسرے بادشاہ کی دعوت پر ملک سے باہر جانا پڑ گیا۔ جانے سے پہلے بادشاہ نے ملکہ کو حکم دیا کہ میں باہر جا رہا ہوں۔ اگر میرے آنے سے پہلے ولادت تو ہوئی لڑکا ہوا تو ٹھیک لیکن اگر لڑکی ہوئی تو اسے ہلاک کر دینا یہ کہہ کر بادشاہ چلا گیا۔ چند ہفتے کے بعد اس کے ہاں لڑکی کی ولادت ہوئی۔ ملکہ گھبرا گئی اور رونے لگی ۔ اے اللہ اب میں کیا کروں۔ ولادت کے وقت ایک دائی موجود تھی جو کہ ملکہ کی حالت زار دیکھ رہی تھی۔ اللہ نے اس کے دل میں رحم پیدا کیا۔ اس نے ملکہ سے کہا اے ملکہ آپ دل چھوٹا مت کیجئے میں یہاں سے سب کے سامنے بچی کو ہلاک کرنے کے بہانے لے جاؤں گی پر میں یہاں سے اسے اپنے گھر میں لے جاکر پالوں گی۔ اگر آپ کسی طرح سے بچی کے لئے خرچ وغیرہ بھیجتی رہیں گی تو آپ کی بچی خوشحال اور آسودہ ہوگی۔ ملکہ نے کچھ سونا چاندی زیورات وغیرہ بچی کے واسطے تھما دیے اور بچی کو اس کے حوالے کر یا۔ محل میں یہ بات پھیلائی گئی دھائی میں بچی کو لے جا کر ہلاک کر دیا ہے۔ جب بادشاہ اپنے سفر سے واپس آیا تو اسے یہی احوال سنایا گیا۔ کہ آپ کے جانے کے بعد بچی کی ولادت ہوئی اور آپ کے حکم کے مطابق اسے ہلاک کر دیا گیا ہے بادشاہ اپنی بد عادتیں کے باعث خوش ہوا۔ بھائی نے لوگوں کے سامنے شہزادی کو اپنی نواسی ظاہر کیا۔ ایک دن بادشاہ کی سواری شہر سے گزر رہی تھی۔ اسی وقت شہزادی اور دائی بھی اسی راستے سے گزر رہی تھی کے بادشاہ کی نظر شہزادی پر پڑی اور پوچھا یہ کون ہے۔ وزیر نے کہا یہ اس بچاری عورت کی نواسی ہے۔ بادشاہ نے حکم دیا مجھے یہ بہت پسند آئی ہے کل اس کے گھر میرے لیے رشتہ لے کر جانا۔ چونکہ حقیقت کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں تھا۔ اس لیے دوسرے دن وزیر وکیل وغیرہ دائی کہ گھر بادشاہ کے لئے اس کی نواسی کا ہاتھ مانگنے گئے۔ اب دائی کے اوسان خطا ہوگئے کہ اللہ اب کیا کروں۔ اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا میں ایک غریب ہوں میری نواسی بادشاہ کے لائق نہیں اور نہ ہی بادشاہ کا کسی غریب سے رشتہ جوڑنا صحیح ہے ۔ اس لئے دوبارہ اس سلسلے میں میرے گھر مت آئیے گا بادشاہ خود تو نہیں آیا لیکن دائی کے گھر رشتے کیلئے بہت سے بندے بھیجے۔ سب نے دائی کو بہت منت سماجت چکی لالچ دیے دھمکی دی لیکن دائی ٹس سے مس نہیں ہوئی بادشاہ نے حکم دیا کہ دائی کو پکڑ کے خوب سزا دو تاکہ وہ رشتے کے لیے مان جائے سپاہی دائی کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لائے اور انہوں نے اسے خوب کوٹ کوٹ کر پیٹنا شروع کیا سپاہیوں نے دائی کو کپڑے کی طرح نچوڑ کے رکھ دیا اتنی مار برداشت نہ کر سکی اور بادشاہ کے سامنے چیخ بڑی بادشاہ سلامت یہ کوئی اور نہیں بلکہ آپ کی بیٹی ہے۔ میں نے اسے ہلاک کرنے کی بجائے لے جاکر اپنے گھر میں اس کی پرورش کی ہے اب بادشاہ کو احساس ہوا کہ وہ کیا غلطی کرنے جارہا تھا خدا نے اسی گناہ عظیم سے بچایا۔ بادشاہ نے سچے دل سے توبہ کی اور اپنی بیٹی کے سامنے بہت شرمندہ بھی تھا بادشاہ نے اپنی بیٹی سے معافی مانگیں اور بیٹی نے بھی اپنے باپ کو معاف کر دیا

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Please disable your adblocker or whitelist this site!

%d bloggers like this: