انسان دنیا میں کس پر اعتبار کرے

میرا نام تانیہ ہے مجھے بچپن سے ہی نیند میں چلنے کی عادت تھی میں رات کو سوتی کسی اور بستر پر تھی اور صبح جب میری آنکھ کھلتی تو میں کسی اور بستر پر ہوتی تھی سارے گھر والے میری اس عادت کا مذاق اڑاتے اور انجوائے بھی کرتے تھے لیکن اس عادت پر قابو پانا میرے بس کی بات نہیں تھی اس عادت نے جوانی میں بھی میرا پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ میری شادی ہوگی شادی کے پہلے کچھ دن تو خوب رونق میلہ لگا رہا پھر میرے شوہر کی چھٹی ختم ہوگئی اور وہ واپس اپنے کام پر دوسرے شہر چلا گیا اب میرے ساتھ میرے گھر میں میری ایک نند دیور اور میرا سسرال رہ گئے تھے کیونکہ میری ساس کا پہلے سے انتقال ہو چکا تھا میں اپنی نند اور دیور کے ساتھ برآمدے میں سوتی تھی جب کہ میرا سر اندر کمرے میں سوتا تھا ایک رات کو میں گہری نیند میں جاگے تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے جسم کے نازک پرائیویٹ حصوں پر ہاتھ لگا رہا ہے مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا کیونکہ میں اب شادی شدہ تھی اور اس کام کی عادت تھی میں چپ چاپ لیٹی رہی اور صورتحال کا مزہ لیتی رہی جب اس کے دست طرازیاں ایک حد سے آگے بڑھ گئی اور اس نے میرے کپڑے بھی اتار ڈالے تو اچانک مجھے 440 واٹ کا جھٹکا لگا اور میں اٹھا کر بستر سے نیچے اتر گئی کیونکہ مجھے یاد آگیا کہ بلے میری شادی ہو چکی ہے لیکن میرا شوہر تو گھر پر ہوتا ہی نہیں ہے تو کون موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے کمرے میں اندھیرا تھا میں نے لائٹ جلائی تو میرے ہوش اڑ گئے کیونکہ میں اپنے سسر کے کمرے میں پہلی بار کھڑی تھی میں نے جلدی سے بستر سے اپنے کپڑے اٹھائے اور اپنے کمرے میں بھاگ گئی ساری رات میں نے پریشانی میں روتے ہوئے گزار دی تھی یوٹیوب یو تھا بالکل اچھا نہیں ہوا تھا اگلے دن میں نے سارا وقت کمرے سے باہر نہیں نکلی مجھ میں اپنے سسر کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا شام تک میں خود سے لڑائیاں لڑتی رہی اور رات کو میں نے اپنے سسر سے دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر لیا میں سیدہ ان کے کمرے میں چلی گئی ہو مجھے دیکھ کر وہ خوش ہو گئے اور عجیب سے انداز میں مسکرا کر کہنے لگے او بہو لگتا ہے ناراض ہو گئی ہو میں نے غصے میں دباتے ہوئے کہا کہ رات کو آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا آپ کی بیٹی جیسی ہو کہنے لگے تم آدھی رات کو خود میرے بستر میں آئی تھی میرا کوئی قصور نہیں اس میں میرے آنسو نکل پڑے میں نے ان کو بتایا کہ میں آپ کے بستر میں نہیں آئی تھی بلکہ مجھے بچپن سے نیند میں چلنے کی بیماری ہے میں سوتے جے میں چل کر آپ کے ساتھ لیٹ گئی تھی کم سے کم آپ کو غیرت اور خیال کرنا چاہیے تھا آپ کو غیرہ پھر میں نے اسے دل سے کمرے میں لاک لگا کر الگ سے سوچنا شروع کر دیا اور اگلی بار میں اپنے شوہر گھر آئے تو میرے اصرار پر مجھے اپنے ساتھ لے گئے پیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.