بادشاہ کی تین شرطیں

محترم خواتین و حضرات کسی ملک میں ایک بادشاہ تھا وہ خوش رہنا چاہتا تھا وہ خوشی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا اس نے خوشی کے ماہرین کی مدد بھی لی سیالوں دانشوروں اور سمجھ داروں کے پاس گیا وہ ایک پہاڑ پر چلا گیا پہاڑ پر ایک درویش رہتا تھا درویش کے دو مشاغل تھے صبح کے وقت مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانا اور سورج کو آہستہ آہستہ ابھرتے دیکھنا اس کے بعد جنگل میں نکل جانا سارا دن جنگل میں گزار دینا بھوک لگتی تو درختوں سے پھل توڑ کر کھا لیتا پیاس لگتی تو دیو اور جنوں کا پانی پی لیتا اس کے پاس رہنے کے لیے ایک جھونپڑی تھی رات جھونپڑی میں آ جاتا درویش کے پاس سردیوں کے لیے دو کمبل تھے گرمیوں کے لیے کھلا آسمان اور ٹھنڈی زمین بھی درویش کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی خوش تھا بادشاہ اس خوشی کی وجہ دریافت کرنے کے لئے درویش کے پاس پہنچ گیا درویش نے بادشاہ کی بات سنی اور کہکا لگایا لکڑی کی چپل پہنی اور بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت میں آپ کی اس بات کا جواب آپ کے دربار میں دوں گا بادشاہ نے درویش کو گھوڑے پہ بٹھایا اور دارالخلافہ آگیا درویش نے درخواست کس کی آپ کسی ضرورت مند کو بلائے بادشاہ نے ایک خط نکالا وہ خط وزیر کو دیا عورت مرد کو طلب کرنے کا حکم دے دیا ضرورت مند کو دربار میں حاضر کر دیا گیا درویش نے بادشاہ کے کان میں سرگوشی کی کہ آپ حکم جاری کریں بادشاہ بولا اور ضرورت مند تم جاؤ میری سلطنت میں دوڑوں تو سورج غروب ہونے تک زمین پر جتنا بڑا دائرہ بنا لو گے وہ زمین ساری کی ساری تمہاری ہو جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ جہاں سے بھاگو گے مغرب ہونے سے پہلے وہاں پر واپس آنا ہوگا بادشاہ نے ضرورت مند کو حکم دے دیا حکم جاری ہونے کے بعد بادشاہ درویش اور درباری محل کے سامنے کرسی بچھا کر بیٹھ گئے ضرورت مند کو لکیر کھینچ کر مقام پر کھڑا کر دیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.