حضرت عیسی علیہ السلام کا معجزہ اور آسمانی دسترخوان

ایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت عیسہ علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ چل رہے تھے آپ کے ہواریوں نے کہا کیا آپ کا اللہ آسمان سے کھانا اتار سکتا ہے یہ سن کر اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام نے فرمایا اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو تو انہوں نے عرض کیا ہم تو اپنے ایمان کی تازگی کے لئے عرض کر رہے ہیں تاکہ ہم اللہ کی قدرت کو دیکھیں اور پیٹ بھر کے کھانا کھا کر اپنے ایمان کو بڑھائیں اور وہ لوگ جو کفر پر ہیں ان کا ایمان بھی آپ پر ہو جائے بس یہ سن کر اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کے دربار میں دعا مانگی اے اللہ ہمارے لئے آسمان سے دسترخوان اتار تاکہ ہمارے اور آنے والے لوگوں کے لئے یہ نشانی عید بن جائے بے شک تو بہترین رزق دینے والا ہے بس اللہ نے جیسے ہی حضرت عیسی کی دعا سنی تو فرمانے لگے ایسی تمہارے پروردگار نے تمہاری دعا قبول کر دیں لیکن اس دسترخوان کے اترنے کے بعد اگر ان لوگوں نے خیانت کی تو ان پر وہ عذاب نازل ہوگا جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جائے گا ابھی یہ الفاظ مکمل ہو ہی رہے تھےکے اتنی دیر میں آسمان سے فرشتے دسترخوان اتار کے لیے آئے جس میں سات مچھلیاں اور ساتھ روٹیاں تھی بعض روایتوں میں ہے کہ آسمان سے مچھلی اور گوشت اترا اور کچھ روایات میں کہ ایک بڑی مچھلی خوب پکی ہوئی قسم قسم کی سبزیاں اور روٹیاں دسترخوان پر موجود تھی ایک روٹی پر روغن زیتون ایک پری شہد ایک پر گھی اور بوٹیاں تھی بس جیسے ہی حضرت عیسی کے حواریوں نے نورانی دسترخوان اور روٹی کو دیکھا ایک جس کا نام شمعون تھا جو اپنی قوم کا سردار تھا کہنے لگا اے روح اللہ کیا یہ دسترخوان دنیاوی کھانوں میں سے ہے یا آسمانوں کے اللہ کے نبی عیسی علیہ السلام نے فرمایا یہ دسترخوان نہ دنیا کے کھانوں میں سے ہے نہ آسمانوں کے بلکہ تمہارے پروردگار نے ابھی ابھی ایجاد کر کے تمہارے لیے اتارا ہےفرمانے لگے پیٹ بھر کے کھاؤ اور اس میں خیانت نہ کرنا کے لیے ذخیرہ کرنا ورنہ اللہ کا عذاب ہم پر آ پہنچے گالیکن افسوس وہ لوگ اس کھانے میں خیانت بھی کرتے ہیں اور کل کے لیے تھوڑا تھوڑا چھپانا بھی شروع کر دیابس جیسے ہی رات ہوئی سب پیٹ بھر کے سوتے ہیں اور اللہ کا عذاب ان پر آ جاتا ہے اب جیسے ہی سورج طلوع ہوا تو ان میں سے کچھ خنزیر بن جاتے ہیں کچھ بندر بن جاتے ہیں اور ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیتے اور اپنے آپ کو نوچتے رہتے ہیں اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام نے جب ان کو دیکھا تو اللہ سے دعا کی کہ وہ تیسرے دن سارے اللہ اور اللہ کے نبی کے نافرمان دنیا سے مر کے فنار ہو گیے بےشک اللہ کے نافرما کا یھی حشر ہوتا ہےاللہ پاک نے اس واقے کو اپنی کتاب قرآن کی سورح ماءیدا میں محفوز کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.