حضرت عمر کی زندگی کا بہت پیارا واقعہ

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا بہت خوبصورت واقعہ حضرت عمر کی کسی دوسرے ملک کے بادشاہ کے ساتھ جنگ چل رہی تھی کافی دن سے تھی آخر وہ وقت آیا جب کچھ دن بعد حضرت عمر کی جنگ میں جیت ہوئی تو بادشاہ حضرت عمر کے قدموں میں تھا اور تلوار حضرت عمر کے ہاتھ میں تھی اس سے پہلے کے حضرت عمر بادشاہ کا سر قلم کرتے حضرت عمر نے بادشاہ سے پوچھا اگر تمہاری کوئی آخری خواہش ہے تو بتاؤ تو بادشاہ نے چالاکی دکھاتے ہوئے کہا کہ حضرت عمر گلاب کا شربت پینا چاہتا ہوں کہ بادشاہ نے دل میں سوچا جب تک شربت آئے گا جان تو بچی رہے گی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تمہاری آخری خواہش ضرور پوری کی جائے گی تو حضرت عمر نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا جاؤ جتنی جلدی ہو سکتا ہے شربت لے کے آؤ کچھ دیر بعد گلاب کا شربت آگیا اور لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا گیا تو بادشاہ کے دل میں ڈر پیدا ہو گیا کہ اگر میں نے شربت یا تو حضرت عمر میرا سر قلم کر دیں گے بادشاہ شربت پیتے ہوئے ڈر رہا تھا حضرت عمر نے فرمایا ڈرو مت میں وعدہ کرتا ہوں جب تک تم شربت ختم نہیں کر لیتے تمہیں نہیں ماروں گا۔ جب بادشاہ نے یہ سنا کہ حضرت عمر نے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ جب تک میں شربت نہیں پیتا وہ مجھے نہیں ماریں گے تو بادشاہ نے شربت زمین پر گرا دیا اور حضرت عمر سے فرمایا میں نے شربت نہیں پیا اب آپ مجھے قتل کر دیں حضرت عمر نے فرمایا بے شک تم میرے بہت بڑے دشمن ہو لیکن میں اپنے وعدے سے مکر نہیں سکتا اگر تم نے شربت نہیں پیا تو جاؤ میں نے تمہیں قتل بھی نہیں کرنا کیونکہ میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اپنے وعدے پر قائم رہو اور میں اپنے نبی کی سکھائی ہوئی ہدایت توڑ نہیں سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published.