Qaroon our uksa khazana nishan e ibrat

قارون کے خزانے کے متعلق اپنے تاریخی حکایات اور محاورے تو سنے ہوں گے وہ شخص ہے جس کا ذکر اللہ نے قرآن مجید میں نشان عبرت کے طور پر کیا ہے قارون کا قصہ اسرائیلی اور اسلامی دونوں طرح کی روایت تو میں ملتی ہےیہ بنی اسرائیل کا وہی امیر ترین شخص تھا جس کے خزانے کی کنجیاں تین سو اونٹوں اور خچروں پر لاد ے جاتے تھے اور ہر کنجی چمڑے کی ہوتی تھی جو ایک خزانے کی چابی تھی تاریخ انسانی میں شاید کارون سے سے زیادہ دولت شہرت کسی شخص کو عطا نہیں کی گئی قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یسور کا بیٹا تھا وہ نہایت ہی حسین اور خوبصورت آدمی تھا یہی وجہ تھی کہ بنی اسرائیل اور خبطی لوگ اسے منور کہا کرتے تھے قارون اپنی جوانی میں سب سے زیادہ بااخلاق اور نیک افراد میں شمار کیا جاتا تھا نیز تورات کا بہت بڑا عالم دین بھی تھا کیونکہ اس کی پرورش موسی علیہ السّلام کے سایہ اتفاقات میں ہوئی تھی اس لیے وہ کتاب کا علم بھی رکھتا تھا اور اچھی آواز کا مالک تھا وہ تو رات خوبصورت انداز میں تلاوت کیا کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ لوگ اس کا بہت ادب اور احترام کیا کرتے تھے کارون اقدام حضرت موسی علیہ السلام پر اسلام لے آیا اور جب بنی اسرائیل کو کبکیوں کی غلامی سے نجات ملی تو وہ ان کے ساتھ مصر کو چھوڑ کر سرزمین موعوکی طرف ہجرت کر گیا وہاں اس کے حالات ایک دم سے بدل گیا اور اس کے ہاتھ میں بے شمار دولت آئے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنی قوم کا امیر ترین شخص بن گیا جس کا ذکر اللہ نے قرآن مجید میں کچھ یوں کیا ہے بےشک قارون موسی کی قوم سے تھا پھر اس نے قوم پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت پر بھاری تھی ایک جگہ فرمایا جب اس سے اس کی قوم نے کہا اتراو نہیں بے شک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بول اور احسان کر جیسے اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمین پر فساد نہ کر بے شک اللہ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا جب زکوۃ کا حکم کب نازل ہوا تو حضرت موسی علیہ السلام نے اس سے عہد لیا تھا تو اس نے وعدہ کیا کہ اپنے مال کا ہزارواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا جب اس نے اپنے اعمال کا حساب لگایا ایک بہت بڑی رقم زکوۃ کی نکلی لہذا اس کے دل میں حرص اور لالچ پیدا ہوگی اور وہ زکات کا منکر ہوگیا اس نے ایک گندی چال چلی اس نے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ کو جو اس کے حمایتی تھے جمع کیا اور کہا اے بنی اسرائیل موسی نے ہمیں بہت سے امور کا حکم دیا جس پر تم لوگوں نے اس کی پیروی کی اب وہ تم سے تمہارا مال بھی دینا چاہتا ہے فلاں فاحشہ عورت کو لے کر آؤ تاکہ اسے کچھ پیسے دے کر موسی کو بدکار ثابت کیا جا سکے کارون نے اپنی قوم کے لوگوں کو جمع کیا اور حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا کے زنا کی کیا سزا ہے حضرت موسی علیہ السلام نے کہا جو بی زنا کرے حالانکہ اس کی بیوی بھی ہو اسے سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے قارون نے حضرت موسی سے کہا حتیٰ کہ اگر یہ کام آپ نے بھی انجام دیا ہو تو بھی موسی علیہ السلام نے کہا ہاں حتیٰ کہ اس کام کو میں بھی انجام دوں تو وہی حکم ہے قارون نے کہا بنی اسرائیل یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ نےفلاں فاحشہ سے زنا کیا ہے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا عورت کو میرے سامنے لاؤ لہذا وہ عورت بلائی گئی تو آپ نے فرمایا اے عورت اس اللہ کی قسم جس بنی اسرائیل کے لئے دریا پھاڑ دیا اور عافیت اور سلامتی کے لیے دریا کے پار کرا کر فرعون سے نجات دی سچ کہہ دے کہ واقعہ کیا ہے حضرت موسی کے جلال سے عورت سہم کر کانپنے لگی اور اس نے مجمع عام میں صاف صاف کہہ دیا کہ اے اللہ کے نبی مجھ کو کارون کسیر دولت دے کر آپ پر بہتان لگانے کے لئے آمادہ کیا ہے اس وقت حضرت موسی علیہ السلام آبدیدہ ہو کر سجدہ شکر میں گرپڑے اور بحالت سجدہ میں یہ دعا مانگی کے اللہ کارون پر اپنا قہر و غضب نازل فرما دیں لہذا وہ تمام لوگ جو قارون کے ساتھ تھے وہ جدا ہو گئے موسی علیہ السلام نے اللہ کے اذن سے زمین کو حکم دیا اور زمین پھٹ پڑیں قارون اور اس کے پیروکار اس میں پھنسنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے کارون اس کا مکان خزانہ سب اس زمین میں دھنس گیا جب یہ زمین میں نابود ہو گئے تو زمین کا شگاف دوبارہ بند ہوگیا قارون کے اس دولت کے متعلق بہت سارے تاریخی شکایات نقل کی گئی ہیں اور تا قیامت قارون اور اس کا خزانہ تمام انسانیت کے لئے نشان عبرت بنی رہے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published.