Urdu story 2022 best moral story

میں گودام 8 بجے بند کر دیتا تھا۔ خُدا کی کرنی کہ کسی کام میں مصروف ہُوا اور 11 بجے تک بیٹھا رہا۔ سنسان اور ویران علاقے میں۔ ایک بوڑھی عورت ہاتھ میں شاپر پکڑے ہوئے میری طرف آئی۔ کہتی بیٹا مال بیچنا ہے لو گے۔
اماں جی آپ لوگوں کی خدمت کے لیئے ہی تو بیٹھا ہُوا ہوں۔ کیوں نہیں لوں گا۔
مال کا وزن کیا تو صرف 30 روپے بنے۔
کہنے لگی بیٹا 100 روپے دے دو۔ میرے پاس جب ہوئے واپس کر دوں گی۔
میں نے جیب سے 100 نکالا دے دیا۔ کہنے لگی بیٹا فکر نہ کرنا جلد ہی واپس دوں گی۔
میں نے کہا فکر کیسی ماں جی۔ آپ واپس نہ بھی دیں تو کوئی مسلہ نہیں۔ میرا لاکھوں کا کاروبار ہے۔ 70 روپے کے لیئے میں کیوں فکر کروں گا۔
آپ واپس نہ بھی دیں تو کوئی مسلہ نہیں۔
میں نے آپ کو بخش دیئے ہیں۔۔
اُس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا اللّٰہ پاک آپ کو ہر آفت سے بچائے کاش میرا بیٹا بھی ایسا ہوتا۔
ایسا ہوتا مطلب۔ آپ کا بیٹا نہیں ہے کیا۔۔
ہیں نہ۔ 7 بیٹے ہیں۔ 7 بیٹوں کے بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی۔
پیدا ہونے کے کچھ دن بعد فوت ہوگئی۔ ابھی اُس کا دُکھ برداشت نہیں ہورہا تھا کہ شوہر بھی چل بسا۔ اکیلی تن تنہا بچوں کو پالا اور سب کی شادی کروائی۔ 2 بیٹے فوت ہو گئے۔ 4 کی شادی کروائی۔ چاروں گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ ایک سب سے چھوٹا بیٹا میرے ساتھ ہے۔ مگر وہ اتنا نہیں کما پاتا کہ گزر بسر ہو۔ کبھی کبھار بھوکا سونا پڑتا ہے۔ تو کبھی صبح کا ناشتہ نہیں ہو پاتا۔
باقی بیٹوں سے بات کرتی ہوں تو کہتے ہیں امی دفعہ ہو جائیں ہمارے پاس مانگنے نہ آیا کریں۔
بیٹا تم نے بیگانہ ہو کر بھی میری مدد کی۔ کاش میرا ایک بیٹا ہی ایسا ہوتا۔ جس کے دل میں احساس ہوتا۔ تو آج میں یوں نہ مانگتی۔ صبح ناشتے کے لیئے کچھ نہ تھا۔ اس لیئے سوچا تھوڑا سا سامان بیچ کر ناشتے جتنا کر لوں۔ مجھے اُمید تھی آپ کا گودام کُھلا ہوگا۔ اور شکر ہے گودام کُھلا ملا۔
اماں جی۔ کیا آپ جانتی ہیں آپ کتنی خوش قسمت ہیں۔ میں 8 بجے چلا جاتا ہوں۔ آج مجھے کسی نے روک رکھا 11 تک۔ اور جانتی ہیں جس نے روکا تھا صرف آپ کے لیئے وہ کون ہے۔
اللّٰہ ۔ وہ اللّٰہ جس پر امُید لگا کر آپ میرے پاس آئی۔ ورنہ میں تو کب کا گھر پہنچ چکا ہوتا۔
اور میرے دوستوں اب 2:40 کا ٹائم ہے۔ نیند نہیں آرہی تھی۔ بار بار زہن میں آرہا تھا کہ پوسٹ بناؤں۔ اور لوگوں سے پوچھوں۔
کیا احساس مر چکے ہیں۔ کیا ظمیر گِر چکے ہیں۔ کیا ماں

Leave a Reply

Your email address will not be published.